نوجوان بےراہ روی کا شکار کون ہے ذمہ دار؟کیوں بڑھتے جارہی ہے جرائم وارداتیں!؟
*نوجوان*نوجوان بےراہ روی کا شکار کون ہے ذمہ دار؟*
*ازقلم : محمد عارف نوری*
*(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں)*
*------------------------------------------*
*کسی بھی شہر، ریاست، ملک کی معاشرت اور اس کی تہذیب وہاں رہنے والے افراد کی زندگی، ان کے رہن سہن، ان کی سوچ اور ان کے رویوں سے ہوتی ہے کہا جاتا ہے کہ نوجوانوں میں گمراہی اور بگاڑ تب پیدا ہوتا ہے جب وہ بلوغت اورنشوونما کی طرف گامزن ہوتے ہیں ہر لمحہ نئے تجربات اور احساسات ان کی سوچ اور فکر کی راہیں متعین کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں دوسری طرف جذبات کی شدّت انہیں درست فیصلے کرنے نہیں دیتی یہی وہ موقع ہوتا ہے جب نوجوانوں کو رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اس وقت انہیں ماں باپ بزرگوں اور اساتذہ کی توجہ نہ ملے تو ان کی شخصیت میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔*
*نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں کوئی تعمیری سوچ نہیں تعلیمی مواقع کم ہیں ان کی تعلیمی اور معاشی ناکامیاں انہیں مایوس اور نا امید کر دیتی ہیں خواہشات اور شیطانی وسوسوں میں پڑ جاتے ہیں نوجوانوں میں بے راہ روی کی سب سے اہم وجہ دین سے دوری ہے اور نشہ آور اشیاء کا استعمال ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے شہر میں جرائم پیشہ افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے شہر میں قتل، چوری، خودکشی، غنڈہ گردی، طلاق، لڑائی جھگڑے و دیگر معاملات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے موجودہ حالات میں سوشل میڈیا ایک ایسا نشہ بن چکا ہے جس کے نہ ملنے پر آج کا نوجوان ڈپریشن اور پریشانی کا شکار ہو کر اپنی صحت، تعلیم اپنے فرائض اور یہاں تک کہ اپنوں سے کٹ کر زندگی گذار رہا ہے یہ نشہ اسے تنہائی کا عادی بنا رہا ہے بہتر ماحول کا بندوبست کرنا ہوگا کیونکہ ان نوجوانوں سے ہی ہماری کل کی پہچان اور مستقبل وابستہ ہے۔*
🧑🏻💼👨🏻🦱🍾🥃🔪🗡️🪓📱📺🎞️🔫
*------------------------------------------*
*ازقلم : محمد عارف نوری*
*(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں)*
*------------------------------------------*
*کسی بھی شہر، ریاست، ملک کی معاشرت اور اس کی تہذیب وہاں رہنے والے افراد کی زندگی، ان کے رہن سہن، ان کی سوچ اور ان کے رویوں سے ہوتی ہے کہا جاتا ہے کہ نوجوانوں میں گمراہی اور بگاڑ تب پیدا ہوتا ہے جب وہ بلوغت اورنشوونما کی طرف گامزن ہوتے ہیں ہر لمحہ نئے تجربات اور احساسات ان کی سوچ اور فکر کی راہیں متعین کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں دوسری طرف جذبات کی شدّت انہیں درست فیصلے کرنے نہیں دیتی یہی وہ موقع ہوتا ہے جب نوجوانوں کو رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اس وقت انہیں ماں باپ بزرگوں اور اساتذہ کی توجہ نہ ملے تو ان کی شخصیت میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔*
*نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں کوئی تعمیری سوچ نہیں تعلیمی مواقع کم ہیں ان کی تعلیمی اور معاشی ناکامیاں انہیں مایوس اور نا امید کر دیتی ہیں خواہشات اور شیطانی وسوسوں میں پڑ جاتے ہیں نوجوانوں میں بے راہ روی کی سب سے اہم وجہ دین سے دوری ہے اور نشہ آور اشیاء کا استعمال ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے شہر میں جرائم پیشہ افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے شہر میں قتل، چوری، خودکشی، غنڈہ گردی، طلاق، لڑائی جھگڑے و دیگر معاملات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے موجودہ حالات میں سوشل میڈیا ایک ایسا نشہ بن چکا ہے جس کے نہ ملنے پر آج کا نوجوان ڈپریشن اور پریشانی کا شکار ہو کر اپنی صحت، تعلیم اپنے فرائض اور یہاں تک کہ اپنوں سے کٹ کر زندگی گذار رہا ہے یہ نشہ اسے تنہائی کا عادی بنا رہا ہے بہتر ماحول کا بندوبست کرنا ہوگا کیونکہ ان نوجوانوں سے ہی ہماری کل کی پہچان اور مستقبل وابستہ ہے۔*

Comments
Post a Comment